الوداع شاعری

الوداع شاعری 

الوداع شاعری

الوداع شاعری 

اس سے پہلے کہ میرے سامنے ہو رخ تیرا اردو پوئٹری

پھولوں سے دوستی کیا کرو کہ

ہوتی نہیں دوستی چہروں سے

جو نہیں سنتے ہیں ان کو بھی سناؤ اپنی بات

تمہیں محسوس کرنا ہی میرا عشق ہے

ہر لمحے کو محسوس کرنا سیکھیں

دنیا کا ہر درد اپنی جگہ لیکن تنہائی میں

ایک سمندر ہے جو طوفان سے خوشی ہوتا ہے

دوست دوست نہیں دل کی دوا ہوتا ہے

بعض اوقات وہ اذیت لکھی بھی نہیں جاتی

محسوس ہو رہی ہے فضا میں اس کی خوشبو

غضب کا پیار تھا اس کی اداس آنکھوں میں

میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا ہے

آپ کہہ سکتے ہیں حوصلہ کیجیے

سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے

اب مجھ کو کوئی دلائے نہ محبت یقین

اک تیری برابری کے لیے خود کو کتنا

وہ جس پر ٹوٹ کر اب کے بہار آئی ہے

اختلافات میں اتنی گنجائش ضرور رکھیں

آج لکھنے کو کچھ نہیں ہے

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

خوشبو کو محسوس کرنے کے لیے احساس چاہیے

تم وہ بے وفا ہو میری آنے سے خوش نہ ہوئے

کھری کھنی كهمبیر

تم کرتے ہوں گے اپنے الفاظوں سے متاثر

عزت نفس کی بہترین شکل

تاویلات خاموشی بھی کسی کو یہ بتانے کے لئے

تسنه لب آرزو اے دل

کچھ لوگوں کو لگتا ہے مجھے

انتظار یار بھی لطف کمال ہے

اپنی شاموں میں حصہ پھر کسی کو نہ دیا

آپ کی یادیں پہلے مجھے ہنساتی بھی تھی

تم نے جی بھر کے تو برباد کیا مجھ کو

اور تمہیں میں نے چاہا اس سے بڑھ کر میری اوقات نہ تھی

میری مسکراہٹ کو دیکھ کر لوگوں نے کہا

اور خدا کرے تیرا میرا اب سامنا نہ ہو

گڑ گڑ ا کے رونا چاہتا ہوں کسی کے گلے لگ کے

وہ سب کے ساتھ ضرب کھا رہا ہے

مطلبی دنیاں

یہ دل ہر فریب کی لذت سے آشنا ہے

کبھی رستے جدا ہو جاتے ہیں